دیباجه

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیشگفتار۔

امام جعفر الصادق علیہ السلام نے اپنے با وفا اصحاب سے مخاطب ہوکر فر ماتےہیں ( ۔۔۔منہا تفیض العلم الی سایر البلدان۔۔۔) عنقریب شہر کوفہ مومنین سے خالی ہوجائےگا اور چراغ علم و دانش و ہدایت سے جلد خاموش ہوگا  اور جلد ہی اس شہر میں  نور ظہور کریگا جس کا نام  قم ہے اسلامی علوم کا مرکز ہوگا اور علم وفضل و دانش سے بھرا ہوگا۔

تاریخ کے اوراق اس بات پر شاھد ہیں  کہ علماءاسلام نے حیات انسانی کی بقا کیلےدن رات کوششیں کی ہیں کہ بنی نوع انسان کو شقاوت و عداوت و گمراہی سے نجات دینے کیلے کسی بھی حرکت سے دریغ نہیں کیا  یہاں تک کہ جان کا نذرانہ بھی پیش کیاہے۔

 جمہوری اسلامی ایران بھی کئی سالوں سے علم و اجتہاد و فقاہت کا مرکز اور ساتھ ساتھ  ہی مرکز جہان تشیع بھی ہے۔

اور شاید دنیای عالم میں  تک وتنہا ملک ہے جسکا قانون اساسی  مکتب تشیع پرتشکیل دیا گیا ہے۔ اپنے مکتب کی سر بلندی اور نشر واشاعت اور دفاع میں دن رات مصروف ہے  اور دشمن کی مکرو فریب حیلہ  ومکاریوں سے بچانے کیلے دن رات بیدار ہے۔

واضح و روشن سی بات ہے اس طرح کی خدمات مفکرین کے مشورہ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔اور انہی کی زیر نظر یہ کام جاری

و ساری ہے کیوں کہ معاشرے کی روحی اور معنوی احتیاجات کو پورا کرسکے۔

 ان علماء  میں سے ایک حضرت آیت اللہ العظمی مویدی قمی ہیں آپ کا شمار ان دانشمند علما ءمیں ہوتا ہے جو وارثان حقیقی   علم انبیآء  الھی ہیں دین اسلام کی تبلیغ و ترویج میں دن  و رات مصروف  رہتے ہیں، خداوند عالم کےفضل وکرم سے اور امام زمانہ علیہ السلام کی خاص توجہات سے ؛ ایک وظیفہ پر خطیر  : بیان احکام حلال و حرام ،کو اپنے دوش مبارک پر حمل کیاہے۔

  ولادت

اپ کی ولادت باسعادت؁۱۳۲۰شمسی  ایک مذہبی گھرانے شہر مقدس قم میں ہوئی ہے اور آپ کے جد امجد حاج حسن تاجر اور حاج محمد ابراھیم تاجر اور حاجی حسینی تجار قم کے نام سے معروف تھے اور آپ کے والد محترم حاج مر زا محمود بھی تاجروں میں سے تھے۔

 آپ کی والدہ محترمہ دختر، مرحوم  حاج آقا شیخ اصغر موید الشریعہ کہ جو آیت اللہ  الحاج سید حجت کوہ کمری کے شاگرد اور داماد مرحوم حجت الاسلام ملا محمود زاھدی قمی تھے۔ ( ملا محمود حاج ملا محمود کے نام سے معروف تھے) ؁۱۳۲۵ ۱۲۲۶ ؁مشروطیت کے زمانے میں قم کے لوگوں کی طرف سے پارلمنٹ  میں نمایندہ تھے ملا محمود ہمشیرہ ،مرحوم آیت اللہ حاج مرزا ابوالفضل زاھدی قمی تھے۔

آپ  کےسسر  مرحوم آیت اللہ حاج شیخ علی اصغر فقیھی قزوینی(رہ) بھی علم و اجتہاد  کے منصب پر فائزتھے۔

تحصیلات

حضرت ایت اللہ مویدی قمی نے ابتدایی تعلیم فنون ادب اور علوم قرآنی مدرسہ شایگان قم میں حاصل کی۔؁۱۳۶۷ ھ ق میں کم مدت ہی  میں مٹرک کی ڈگری حاصل کی۔ اور مسجد اعظم کی تعمیر سے پہلے( مسجد آیت اللہ بروجردی ؁۱۳۳۸ ) حوزہ علمیہ قم  مین وارد ہویے۔ آپ نے پہلے ادبیات عرب میں مغنی  و مطول و سیوطی و حاشیہ ملا عبداللہ و۔۔۔جیسی کتابیں اور  فقہ میں کتاب لمعہ حوزہ علمیہ کے برجستہ ترین اساتیذ حضرات آیات عظام  مانند آیت اللہ سلطانی طباطبایی اور مرحوم آیت اللہ مشکینی، آیت اللہ ستودہ ، آیت اللہ محقق داماد سے کے سامنے زانوی ادب کو طےکیا۔

آپ کے اساتیذ۔

معظم لہ نے جیسے ہی سطحیات کے دروس تمام کرنے کے بعد  خارج کے دروس میں  مشغول ہوگئے۔  فقہ و اصول نزد آیات عظام آیت اللہ حایری یزدی فرزند مرحوم موسس حوزہ علمیہ قم ، آیت اللہ میلانی، آیت اللہ العظمی گلپایگانی ، رھبر کبیر انقلاب آیت اللہ العظمی امام خمینی( رحمتہ اللہ علیہم) کسب تلمذ کیا۔

   معظم لہ نے  نہضت انقلاب کے شروع ہونے سے پہلے ہی سطح ۴ کی امتحانات خارج فقہ  آیت اللہ بروجردی کے انتقال سے پہلے دیا تھا۔ اس کے بعد مراجع عظام کی طرف سے اجازہ  اجتہاد اور نقل روایات  و احادیث        دیا گیاتھا۔

تبلیغ دین۔

آیات و روایات میں  دین اسلام کی تبلیغ کو پر وردگار عالم نے  بنی نوع انسان کیلے ایک عطیہ و تحفہ بیان کیا ہے جیسا کہ خداوند کریم نے  سورہ رحمن ، میں خلقت انسان کے بعد فرماتاہے۔الرحمن، علم القرآن، خلق الا نسان ، علمہ البیان، اسی طرح  حدیث معروف بھی ہے کہ( مداد العلما افضل من دما الشہدا)  علما کےقلم  کا ارزش شہدا کے خون سے افضل ہے۔

مفسرین حکمت  اس حدیث کی تفسیر یوں کیا کرتے ہئں،  علما کا قلم سبب قیام شہدا ہے اور  ھدف شہدا کی بقا  کابھی ضامن ہے

ایک اور حدیث  میں رسول خداﷺ فرماتے ہے، کہ جب انسان   دنیا سے چلا جاتا ہے  تین چیزوں کے علاوہ اس کا     رابطہ دنیا و ما فیہا سے  ٹوٹ جاتا ہے  اور ختم ہوجاتا ہےہر چیز سے ناامید ہوجاتاہے، مگرعالم دین کے چلے جانے سے اسکا علم  باقی رہ جاتاہے چا ہے اسکا  یہ علم ،تبلیغ   ، و بیان سے ہو یا  تالیف کے ذریعے سے ہو۔

آیت اللہ مویدی قمی بھی قرآن وسنت اور سیرت معصومین ؑ  پر چلتے ہویے تحصیل علم کے زمانے سے ہی دین اسلام کی تبلیغ کرتے چلے آرہیے ہے۔اورکئی تشنگا ن دین اسلام کو  دلنشین بیانات سے مسلسل سیراب کررہے ہیں۔

علمی کاوش اور اسکی فعالیت۔

معظم لہ نے  اپنی بابرکت عمر شریف   میں نہ فقط حوزہ علمیہ ہی کی خدمات  کی بلکہ حوزہ علمیہ کے ساتھ ساتھطولانی مدت تک  تہران  یونیورسٹی میں  تدریس کے فرائض بھی انجام دیتے رئے اور اس کے علاوہ  فوج میں بھی تدریس کرتے  ریئے۔

تحقیقاتی فعالیت۔

معظم لہ نے  تدریس و تبلیغ کے ساتھ ساتھ  تحقیقاتی امور بھی انجام دیا  کرتے تھے۔ خصوصا بحارالانوار  کی قدیمی جلدوں اور جدید جلدوں کی تطبیقات  چار سالوں  میں انجام دی ہے۔اور ساتھ سات۱۳۵۸أ۱۳۵۷؁ علما  ءمبارز بورڑ  کے عضو بھی  رہ چکےہے

اور جامعہ مدرسین  حوزہ علمیہ قم میں ۱۳۶۲؁  سے ابھی تک عضویت رکھتے ہے۔ اور  چند سال امام جماعت  مسجد حسنی تہران اور اس ٹرسٹ کے صدر بھی  رہ چکے ہے، اور اخلاق  وحسنہ کے پیکر   ہیں  لوگوں کی بی نہایت خدمات کیا کرتے تھے۔ اور ابھی صوبہ مازندران    ،ساری  ،شہر  کی مسجد سوتہ  کےٹرسٹ کے صدر  ہیں اور لوگوں کی مشکلات  اور رہگشائی  کیا کرتے ہے۔

تدریس معظم ۔

اگرچہ ابتداء تحصیل علم سے ہی تدریس انجام دیتے آے  ہیں  ہمیشہ اپنے شاگردوں  کوکہا کرتے ہیں ( الدرس حرف و التکرار الف) طلبہ کیلے تکرار نہیں ہوگا مگر تدریس سے حاصل ہو گا۔

معظم لہ  ابتدا  مقدمات  اور کتب سیوطی ،و مغنی ،و حاشیہ ملا عبداللہ منطق باب حادی عشر اور دیگر  کتب کی سات سال تک تدریس کرتے ، اسکے بعد آپ نے سطح کی تدریس  شروع کی  مدرسہ فیضیہ میں کتاب لمعہ کی بیس سال تدریس کرتے ر ہے

اسکے علاوہ ، معالم ،و قوانین ، رسائل مکاسب ، کفایہ کی تدریس مدرسیہ گلپایگانی میں اب تک پانچ دورہ  کامل کر چکے ہے۔ طور و طریقہ  روش معظم لہ یہ  کہ  کوئی ایسی عبارت نہیں رہتی تھی جو نہیں پڑہایا ہو، اگر سال کے آخر میں   کوئی عبارت رہتی تو اگلے سال ویہی سے شروع کیا کرتے تھے۔اور اسی طرح کفایہ کی تدریس حوزہ علمیہ زاہدان  میں تین سال تک کرتے رہے اور اب حوزہ علمیہ قم میں  دس سال سے تدریس میں مشغول ہیں۔

سطوح عالی۔

آپ کی روش تدریس  شاگردوں کو زیادہ پسند  آنے کی وجہ سے شاگردوں  نے تدریس خارج فقہ کی آپ سے درخواست کی تو  آپ نے ردنہیں کیا بلکہ باکمال میل قبول کیا۔اور سب  سے پہلے درس خارج  مدرسہ گلپایگانی ۱۳۷۶؁ سے ابھی تک تدریس   میں مشغول ہے کتابوں کی ابھی تک تدریس کی ہے  مندرجہ ذیل ہیں۔

صلاۃ جمعہ ،صلاۃ  استیجاری،  صلاۃ جماعت، صلاۃ مسافر، صلاۃ آیات ،   کتاب صوم، ( بحث ثبوت ہلال) صوم قضا، اور صوم کفارات، اور اسی طرح کتاب اعتکاف و خمس کی تدریس کرچکے ہے۔

 تفسیر موضوعی قرآن کریم۔

معظم لہ  تاکید کیا کرتے ہیں کہ قرآن  انسانی زندگی  کےجامہ عملی  ہونا چاہیے اور معظم لہ سال ہا سالوں سے  زندگی کے برناموں   میں سے ایک برنامہ   قرار دیا ہے۔ ابتدیی دور سے ہی تفسیر موضوعی قرآن کریم  آیات توحید برہان ،فطرت، نظم ،  وجوب امکان صرف الوجود، حرکت، فقرو غنا، تمانع، علمی، صدیقین، علت ، کی تدریس کیا ہے۔

اسکے بعد صفات خداوند  (صفات ثبوتیہ ، سلبیہ، کمالیہ، جلالیہ، جمالیہ۔) ابھی تک بحث کرچکے ہے۔

ترتبیی۔

آپ نے تفسیر موضوعی کے اتمام کے بعد ۱۳۷۹؁ سےتفسیرترتیبی شروع کیا تھا اور ابھی تک جاری وساری ہے تدریس کے ساتھ ساتھ  تالیف تفسیر قرآن کریم  میں مشغول ہے۔

نہج البلاغہ۔

معظم لہ  نہ فقط تدریس خارج فقہ ،و   اصول میں مشغول ہے بلکہ اسکے ساتھ  ہمچون گوہر نایاب   کلام مولاالموحدین  علی ابن ابی طالب  علیہما السلام کی دس سال سے تدریس کرتے  چلے آرہہے اور اب تک  کلمات قصار  کے کامل  ایک دورہ  اور تمام نامہ  اور آدھا خطبوں   کی تدریس کرچکے ہے۔

معظم لہ کےسیاسی مبارزات۔

معظم لہ   امام خمینی (رہ) کے سیاسی اور فقہی ، اصولی ، ااور انقلابی  شاگردوں میں سے تھے جب امام نے  وقت کے ظالم حکمران اور امریکی  اسلام  کے نمایندہ محمد رضا شاہ پہلوی کے خلاف آواز اٹھائی، معظم لہ نے ۱۳۴۲؁ سے ہی  بصورت جدی  میدان  مبارزہ میں آیے اورسولہ سال تک ادامہ دیتے  رہے زندان و شکنجوں   اور تبعیدوں سے نہیں ڈرے ۔

 

انقلاب اسلامی کے بعد۔

معظم لہ  انقلاب اسلامی کے بعد اسلامی امور اور اسکے ترویج  و   فعالیت کرتے رہے  یہاں تک کہ ایام دفاع مقدس  میں بعنوان مبلغ اور مدیر حوزہ علمیہ زاہدان ہوئے  کہ موجب خوشحالی سپاہیان  اسلام واقع قرار پایے۔

معظم لہ اور فعالیت اجتماعی۔

معظم لہ اپنی پر بر کت زندگی میں  جو خدمات بیان ہوئے اسکے علاوہ  بہت سے خدمات اجتماعی بھی ہیں کہ جو مندر جہ ذیل ہیں۔

 احداث موئسسہ خیریہ کئی موئسسہ خیریہ تائسیس ہوچکے ہیں  جن سے عوام  مستفیض ہو رہیں ہیں،اسکے علاوہ  ایتام اور مستمدان اور فقرا   اور اسی طرح جن کے پاس جہزیہ نہیں  ان سب کی مدد کی جاتی ہے  بالخصوص صوبہ مازندران  کے دیہات (سوتہ) میں بہت سے کام کئیے ہیں امامبارگاہ ،مسجد، اور صندوق قرض الحسنہ،و۔۔۔۔ بہت سے کام انجام دیے ہیں۔

اسی طرح حوزہ علمیہ زاہدان کی تاسئیس  ۱۳۵۹۔۱۳۶۱؁میں بھی بہت کچھ خرچ کیا ہے اور اسی طرح مسجد حسنی  بنا میں اور   بڈاکتابخانہ ( جو شرق تہران)اور دیگر اقدامات اور ہدمات شامل ہیں۔

 


اوقات شرعی

استخاره

جهت استفتاء با شماره تلفن 02536608068 یک ساعت به ظهر افق تهران تماس حاصل فرمایید.
برای استخاره لطفا با شماره 02536608068 نیم ساعت بعد از اذان ظهر به افق تهران، تماس حاصل فرمایید.

لینکستان